7 جولائی 2013 - 19:30
امریکہ کی جاسوسی کاروائیاں عقل و منطق کے منافی

سی آئی اے کے ایک سابق افسراور تجزیہ کار ڈیوڈ مک مایکل نے کہا ہےکہ امریکہ کی جاسوسی کاروائیاں نہایت وسیع اور عقل و منطق کے منافی ہیں۔

ابنا: پریس ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ میں جاسوسی کا سلسلہ تین صدیوں قبل داخلی جنگ کے زمانے سے جاملتا ہے اور داخلی جنگ کے زمانے میں بھی امریکی حکومت کے جاسوس، محکمہ ڈاک میں عوام کے خطوط پڑھ کر جاسوسی کیا کرتے تھے اور آج بھی یہ روشیں جدید طریقوں سے جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایسا نہیں لگتا ہےکہ امریکی حکومت کی جاسوسی کی عادت کبھی ختم  نہیں ہوسکتی اور اب  امریکہ کی انٹلیجنس ایجنسیاں اور سرکاری محکمے جاسوسی کے لئے مواصلاتی کمپنیوں کے تجارتی معاہدے بھی روک دیتے ہیں۔ اطلاعات ہیں کہ امریکی حکومت نے دوہزار تین میں فائبر آپٹیک نیٹ ورک کے ایک آپریٹر کو اس بات کی اجازت نہیں دی کہ وہ ایشین کمپنی کو اپنا نیٹ ورک فروخت کرسکے۔امریکی انٹلجنس اور سرکاری محکموں نے یہ بہانہ بنایا تھا کہ فائبر آپٹیک سنٹر کا امریکی سرزمین میں ہونا ضروری ہے۔ اس نیٹ ورک سے27 ممالک اور چار برا‏عظم متصل ہیں۔ادھر اوباما انتظامیہ کی ایک سابق اھلکار نے کہا ہےکہ امریکہ میں مواصلات کمپنیوں کو کسی طرح کی آزادی نہیں ہے اور انہیں انٹلجنس اور سکیوریٹی ایجنسیوں کی ہر  بات ماننی پڑتی  ہے۔ برازیل نے امریکہ کی جاسوسی کاروائیوں پر شدید برہمی کا اظہار کیا ہے۔برازیل کے اخبار او گلوبو نے ایک رپورٹ دی ہے جس میں کہا گیا ہے کہ امریکہ کی نیشنل سکیوریٹی ایجنسی نے برازیل ٹیلیفوں نیٹ ورکس اور انٹرنیٹ نیٹ ورکوں سے گذشتہ ایک دھائی میں اربوں کی تعداد میں ڈاٹا چوری کیا ہے۔برازیل کی حکومت نے امریکی سفارتخانے سے اس رپورٹ کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے۔ادھر امریکہ کی مسلح افواج کی مشترکہ کمان کے سربراہ جنرل ڈمپسی نے اعتراف کیا ہےکہ ایڈورڈ اسنوڈن کے انکشافات سے متعدد ملکوں کے ساتھ امریکہ کے تعلقات بری طرح متاثر ہوئےہیں۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۴۲